ورلڈ

افغان استحکام کیلئے امریکا نے پاکستان سے مدد مانگ لی

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے تمام فوجیوں کے انخلا کے بارے میں منصوبے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے افغانستان کو مستحکم کرنے میں خطے کے ہمسایہ ممالک ‘بالخصوص پاکستان’ سے تعاون طلب کرلیا۔

اس نئے منصوبے کے تحت 2 ہزار 500 امریکی اور 7 ہزار ‘نیٹو اتحاد’ کے فوجی بتدریج افغانستان سے نکلیں گے۔

یہ منصوبہ یکم مئی سے شروع ہوگا اور 11 ستمبر 2021 کو اختتام پذیر ہوگا جو ‘ستمبر 2001’ میں امریکا میں ہونے والے حملے کی 20ویں برسی کا روز ہوگا جس کی وجہ سے افغانستان میں امریکا نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم خطے کے دیگر ممالک بالخصوص پاکستان، روس، چین، بھارت اور ترکی سے افغانستان کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کو کہیں گے کیونکہ افغانستان کے مستحکم مستقبل میں ان سب کا مفاد ہے’۔

قبل ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا تھا کہ پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے کی بنیاد پر افغانوں کے زیر قیادت میں پُر امن افغانستان کے لیے ہمیشہ اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

اسلام آباد سے جاری ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری انٹونی بلنکن نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مستقل کوششوں کا اعتراف کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بڑھانے کا وعدہ کیا۔

جہاں امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے منگل کے روز ہی اس منصوبے کے چند حصوں کے بارے میں بتایا تھا تاہم امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس سے براہ راست ٹیلی کاسٹ کی گئی اپنی تقریر میں اس کا باضابطہ اعلان کیا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘اس منصوبے کی طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تیاری کی جارہی تھی’۔

انہوں نے یہ واضح کیا کہ ان کے منصوبے میں نیٹو کی افواج بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم 20 سال قبل ہونے والے ایک خوفناک حملے کی وجہ سے افغانستان گئے تھے تاہم یہ اس بات کی وضاحت نہیں کہ 2021 میں بھی وہاں کیوں رہنا چاہیے، ہم افغانستان میں اپنے افواج کی موجودگی میں توسیع کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، انخلا کے لیے مثالی حالات پیدا ہونے کی اُمید ہے اور مختلف نتیجے کی توقع ہے’۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج پہلے ہی افغانستان میں ضرورت سے زیادہ عرصہ قیام کرچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اب میں چوتھا امریکی صدر ہوں جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کی صدارت کروں گا، دو ریپنلکنز، دو ڈیموکریٹس، اب میں اس ذمہ داری کو پانچویں صدر کی جانب نہیں بھیجوں گا’۔

جو بائیڈن نے یاد دلایا کہ جب صدر براک اوباما اور وہ 2009 میں حلف اٹھانے والے تھے تو صدر کی ہدایت پر وہ افغانستان گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں افغانستان کی وادی کنڑ گیا، جو پاکستان کی سرحد پر ایک ناہموار، پہاڑی علاقہ ہے، اس سفر میں جو کچھ دیکھا اس سے میرے اس عزم کو تقویت ملی کہ صرف افغانوں کا ہی حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی رہنمائی کریں اور زیادہ سے زیادہ اور نہ ختم ہونے والی امریکی فوجی قوت پائیدار افغان حکومت کو تشکیل یا اسے برقرار نہیں رکھ سکتی ہے’۔

جو بائیڈن نے کہا کہ وہ اس یقین کے ساتھ واپس آئے تھے کہ افغانستان میں امریکی موجودگی کو یہ یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے کہ نائن الیون کے حملے کی طرح کے واقعے کے لیے افغانستان سرزمین کا استعمال نہیں کیا جاسکے’۔

امریکی صدر نے اپنے فوجیوں کو وطن واپس لانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے یہ کیا، ہم نے اس مقصد کو پورا کیا، میں نے اور دیگر نے کہا کہ ہم اسامہ بن لادن کا پیچھا کریں گے’۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ جو بائیڈن نے سابق صدر مملکت جارج بش اور باراک اوباما سے انخلا کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا تھا اور انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اب فوجی دستوں کو واپس لانے کا وقت آگیا ہے۔

براک اوباما

بعد ازاں براک اوباما نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کو مکمل کرنے کے حوالے سے صحیح فیصلہ کیا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘افغانستان میں تقریبا دو دہائی تک رہنے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ہم فوری طور پر جو حاصل کرسکتے تھے اسے حاصل کرچکے ہیں اور اب اپنی باقی کی فوج وطن واپس لائیں گے’۔

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ‘افغانستان سے امریکی فوجیوں کے محفوظ، اسٹریٹجک اور منظم انداز میں روانگی کے لیے ٹائم لائن ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے’۔

میک کونل

تاہم جو بائیڈن کے امریکا کی سب سے طویل جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے بارے میں کیپیٹل ہل میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس دونوں میں پھوٹ پڑ گئی۔

سینیٹ میں اقلیتوں کے رہنما مچ میک کونل نے کہا کہ ‘فوری طور پر افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے، یہ ایک ایسے دشمن سے منہ موڑنا ہے جسے ابھی تک امریکی قیادت نے فتح نہیں کیا ہے’۔

ایک اور ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ ‘امریکی صدر نے حقیقت میں نائن الیون کے خلاف ایک اور انشورنس پالیسی منسوخ کر دی’۔

تاہم صدر جو بائیڈن نے یہ تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، ‘میں 40 سالوں میں پہلا صدر ہوں جو جانتا ہے کہ جنگ کے میدان میں آپ کے بچوں کی موجودگی کا کیا مطلب ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس ایسے اہلکار بھی ہیں جو نائن الیون کے حملے کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، افغانستان میں جنگ نسلوں پر مشتمل نہیں تھی’۔

 اشرف غنی

ادھر کابل میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب سے فون پر بات کی ہے اور جنگ سے متاثرہ ملک سے اپنی افواج کی منتقلی کے ان کے فیصلے کا احترام کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ‘افغانستان کی سیکیورٹی اور دفاعی فورسز اپنے عوام کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں’۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا, افغانستان یا پوری دنیا میں کہیں بھی ‘دہشت گردی کے خطرے سے نظریں نہیں چرائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ہم طالبان کو اپنے وعدے کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے کہ وہ کسی بھی دہشت گرد کو افغان سرزمین پر امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بننے کی اجازت نہیں دیں گے، افغان حکومت نے بھی ہم سے یہ وعدہ کیا ہے اور ہم اپنی پوری توجہ اپنے اس خطرے پر ڈالیں گے جس کا آج ہمیں سامنا ہے’۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘امریکا افغان حکومت کو مالی، سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہے گا اور ملک کی دفاعی افواج کے لیے بھی اپنی امداد جاری رکھے گا’۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button