تازہ ترین

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت مکمل

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بینچ نے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے آج اپنے دلائل مکمل کئے۔

سرکاری وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسی ٰ نظرثانی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ آدھے گھنٹے میں فیصلہ بھی سنا سکتے ہیں اور آدھےگھنٹےبعد یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ فیصلہ کب سنانا ہے؟۔

اس سے قبل سماعت کے آغاز پر بینچ میں شامل جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ مجبوری ہے کہ آج کارروائی مکمل کرنی ہے، جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دئیے کہ جسٹس قاضی فائز سےمتعلق حقائق دوہزار انیس میں سامنے آئے، حقائق سامنے آنے سے پہلےایف بی آر کیسےکارروائی کرسکتا تھا؟، حقائق سامنےآنے پر سوال اٹھا کہ جائیدادوں پر فنڈنگ کیسے ہوئی؟۔

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ بھی تو فرض کیا جا رہا ہے یہ ایف بی آر کارروائی نہیں کرے گا، سرکاری وکیل کے دلائل کے دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایک بار پھر مداخلت کی، جس پر جسٹس منظور ملک نے کہا کہ قاضی صاحب آپکے بولنے سے عامر رحمان ڈر جاتے ہیں، کیا حکومتی وکیل آپ سے لکھوایا کریں کہ کیا دلائل دینا ہیں؟۔
دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے لطیفہ سنانےکی استدعا کی جس پر دس رکنی بینچ میں شامل جسٹس منظور ملک نے کہا کہ فی الحال بیٹھ جائیں لطیفہ بعدمیں سنیں گے، معزز جج اور عدالتی ساکھ کا سوال ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ادارےکی ساکھ کا تقاض اہےاس مسئلےکوحل کیاجائے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز کہتے ہیں کہ وہ اہلیہ کےاثاثوں کےجوابدہ نہیں،جس پر کمرہ عدالت میں موجود جسٹس قافی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ جسٹس عمرعطا بندیال ،جسٹس منیب اختر احتساب کیلئے بہت کوشاں ہیں تو دونوں ججز اپنے اور اپنی بیگمات کے اثاثےپبلک کریں۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button