پاکستان

جہانگیر ترین اور اہلخانہ کے 36 بینک اکاؤنٹس منجمد

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی درخواست پر جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین اور اہلیہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے گئے۔

ایف آئی اے لاہور کے ذرائع نے بتایا کہ علی ترین کے 21، جہانگیر ترین کے 14 اور ان کی اہلیہ کا ایک بینک اکاونٹ منجمد کیا گیا۔

مذکورہ بینک اکاؤنٹس ایف آئی اے لاہور کی درخواست پر منجمد کیے گئے جن میں کروڑوں روپے کی رقم موجود ہے۔

 

ذرائع کا کہنا تھا کہ 9 سرکاری اور نجی بینکوں نے جہانگیر ترین اور ان کے اہلِ خانہ کے مجموعی طور پر 36 اکاؤنٹس منجمد کیے۔

دوسری جانب مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے کیسز کے سلسلے میں آج جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین ریکارڈ کے ہمراہ ایف آئی اے لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے۔

ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم نے مالیاتی اسکینڈل پر درج کیے جانے والے مقدمات کی تفتیش کے لیے علی ترین اور ان کے والد جہانگیر ترین کو آج طلب کیا تھا۔

جہانگیر اور علی ترین تفتیش کے سلسلے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے ایف آئی اے دفتر میں رہے اور انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔

اس دوران تحقیقاتی ٹیم نے ان سے منی لانڈرنگ اور فراڈ ٹرانزیکشن کے حوالے سے سوالات کیے اور ان کے جوابات ریکارڈ کا حصہ بنادیے گئے۔

پس منظر

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف مالیاتی فراڈ اور منی لانڈرنگ کا مقدمات درج کیے تھے۔

دستاویزات کے مطابق پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 406، 420 اور 109 جبکہ انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعہ 3/4 کے تحت 2 علیحدہ مقدمات درج کیے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق انکوائری کے دوران جہانگیر ترین کی جانب سے سرکاری شیئر ہولڈرز کے پیسے کے غبن کی سوچی سمجھی اور دھوکہ دہی پر مبنی اسکیم سامنے آئی جس میں جہانگیر ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو نے دھوکے سے 3 ارب 14 کروڑ روپے فاروقی پلپ ملز لمیٹڈ (ایف پی ایم ایل) کو منتقل کیے جو ان کے بیٹے اور قریبی عزیزوں کی ملکیت ہے-

جس کے بعد جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین نے لاہور کی سیشن کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔

جہانگیر ترین اور علی ترین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایف آئی اے نے جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا جبکہ کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لیکن ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمے میں نامزد کر دیا۔

عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے دونوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی تھی اور ایف آئی اے سے 10 اپریل تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 21 فروری 2020 کو ملک بھر میں چینی کی قیمت میں یکدم اضافے اور اس کے بحران کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔

کمیٹی نے 4 اپریل کو اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔

انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019 میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018 میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

جس کے بعد 21 مئی کو حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک آڈٹ کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظرعام پر لائی تھی جس کے مطابق چینی کی پیداوار میں 51 فیصد حصہ رکھنے والے 6 گروہ کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے الائنس ملز، جے ڈی ڈبلیو گروپ اور العربیہ مل اوور انوائسنگ، 2 کھاتے رکھنے اور بے نامی فروخت میں ملوث پائے گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے 7 جون کو شوگر کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں چینی اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف سفارشات اور سزا کو منظور کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

جہانگیر ترین جون میں ہی خاموشی کے ساتھ انگلینڈ روانہ ہو گئے تھے، وہ انکوائری کمیشن کی جانب سے چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ جاری کرنے سے قبل ہی ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں کئی ماہ انگلینڈ میں قیام کے بعد نومبر میں وطن واپس آئے تھے اور واپسی پر لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے بتایا تھا کہ وہ علاج کے لیے بیرون ملک گئے تھے اور میں اس مقصد سے گزشتہ 7 سال سے بیرون ملک جا رہا ہوں، علاج مکمل ہونے کے بعد اب وطن واپس آ گیا ہوں۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button