ورلڈ

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج، کسانوں نے مودی حکومت پر بڑا الزام عائد کردیا

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں نے بھارتی حکومت پر بڑا الزام عائد کردیا ہے۔

دہلی کے غازی پور بارڈر پر زرعی قوانین کے خاتمے کا مطالبے لئے بھارتی کسانوں کو دھرنا دئیے ایک سو تیس روز گزرچکے، کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں زرعی قوانین کو واپس لےاور ساتھ ہی ایم ایس پی پر قانونی ضمانت دے لیکن حکومت کسانوں کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔

بھارتی حکومت اپنی روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھے ہوئے ہے ، مودی سرکار کا کہنا ہے کہ وہ کسی صورت زرعی قوانین کو واپس نہیں لے گی۔دوسری جانب کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں ہو جاتے تب تک وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

بھارت کے مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا وائرس عروج پر ہے، کیونکہ کرونا وائرس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔

کرونا کے بڑھتے کیسز پر زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کسانوں کا موقف ہے کہ کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیچھے ایک سازش ہے، کرونا کے بہانے حکومت ان کا احتجاج ختم کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کرونا وائرس کے 115736 نئے کیسز سامنے آئے، جس کے بعد مثبت کیسز کی مجموعی تعداد 12801785 تک جاپہنچی ہے، گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا کے باعث بھارت میں 630 افراد کی اموات ہوئیں، جس کے بعد کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 166177 ہوگئی ہے۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button