صحت

سرخ گوشت کھانا کیسے جان لیوا ثابت ہوتا ہے؟ اہم تحقیق سامنے آ گئی

اگر آپ کو سرخ گوشت کھانا بہت زیادہ پسند ہے تو یہ عادت آپ کو جان لیوا امراض قلب کا شکار بناسکتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی جس کو یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے آن لائن اجلاس میں پیش کیا گیا۔

تحقیق میں 20 ہزار کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا اور دریافت ہوا کہ سرخ اور راسیس گوشت کا زیادہ استعمال دل کے افعال کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔

برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں سرخ گوشت کے زیادہ استعمال اور ہارٹ اٹیک یا امراض قلب سے موت کے خطرے کے درمیان تعلق کو ثابت کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مگر ہم نے پہلی بار سرخ گوشت کے استعمال اور دل کی صحت کے تعلق کی جانچ پڑتال کی، جس سے اس میکنزم کو سمجھنے میں مدد ملے گی جو امراض قلب کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق میں 19 ہزار 400 سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جو یوکے بائیو بینک سے حاصل کیا۔

محققین نے سرخ اور پراسیس گوشت کے استعمال کے دل اور اس کے افعال پر مرتب اثرات کا تجزیہ کیا۔

اس تجزیے میں دل کی صحت کے 3 پہلوؤں کو دیکھا گیا تھا یعنی دل کے افعال، دل کی ساخت اور دل کی شریانوں کی لچک۔

عمر، جنس، تعلیم، تمباکو نوشی، الکحل، ورزش، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول، ذیابیطس اور جسمانی وزن جیسے دیگر عناصر کو مدنظر رکھنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ سرخ اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال دل کی صحت پر بدترین اثرات مرتب کرتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سرخ گوشت کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد کے دل کے افعال ناقص جبکہ شریانیں سخت ہوتی ہیں، یہ سب دل کی شریانوں کی خراب صحت کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

محققین نے مچھلی اور دل کی صحت کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا اور دریافت کیا کہ مچھلی کی مقدار میں اضافے سے دل کے افعال بہتر جبکہ شریانیں لچکدار ہونے لگتی ہیں۔

محققین نے کہا کہ اس دریافت سے سابقہ نتائج کو تقویت ملتی ہے کہ سرخ اور پراسیس گوشت کا استعمال امراض قلب کا باعث بنتا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال امریکا کی نارتھ ویسٹرن میڈیسین یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ سرخ اور پراسیس گوشت کا استعمال امراض قلب اور موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہفتے میں صرف 2 بار سرخ گوشت، پراسیس گوشت یا چکن کا استعمال (مچھلی نہیں) دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ 3 سے 7 فیصد تک ببڑھا سکتا ہے۔

اسی طرح ہر ہفتے 2 بار سرخ یا پراسیس گوشت (چکن یا مچھلی نہیں) کھانے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ہر ہفتے 2 بار سرخ یا پراسیس گوشت (چکن یا مچھلی نہیں) کھانے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 3 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حیوانی پروٹین پر مشتمل غذاﺅں کے استعمال میں احتیاط امراض قلب اور قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button