پاکستان

سندھ کابینہ نے انٹرا ڈسٹرکٹ آپریشن کیلئے ہائبرڈ الیکٹرک بسوں کی خریداری کی منظوری دے دی

سندھ کابینہ نے 2017 کی مردم شماری کے نتائج کی منظوری کے معاملے کو صوبائی اسمبلی میں لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

صوبائی کابینہ نے انٹرا ڈسٹرکٹ آپریشن کے لیے 250 ڈیزل ہائبرڈ الیکٹرک بسوں کی خریداری کی بھی منظوری دے دی۔

صبح 10 بجے شروع ہونے والا اجلاس شام 5 بجے اختتام پذیر ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کی اور صوبائی وزرا، مشیران، چیف سیکریٹری ممتاز شاہ اور دیگر نے شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ نے کابینہ کو بتایا کہ انہوں نے پیر کو ایک ویڈیو لنک کے ذریعے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں رائے شماری 2017 کو اس کے متفقہ ووٹ کے باوجود منظور کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ مردم شماری کے خلاف چاروں صوبوں کو شدید تحفظات ہیں۔

انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ سی سی آئی اپنے آغاز سے ہی متفقہ فیصلے لے رہی ہے لیکن یہ پہلا فیصلہ تھا جو اختلاف رائے پر مبنی تھا اور ایسی صورت میں انہیں معاملہ سندھ اسمبلی میں لے جانا پڑا۔

ساتھ ہی صوبائی کابینہ نے مردم شماری کا معاملہ اسمبلی میں اٹھانے کی منظوری دے دی۔

وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ نے بتایا کہ ان کے محکمے نے سندھ انٹرا ڈسٹرکٹ پیپلز بس سروس منصوبے کے تحت 250 ڈیزل ہائبرڈ الیکٹرک بسوں کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بسیں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بے نظیر آباد میں چلیں گی۔

اویس قادر نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ نے ایک پیشہ ور کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس منصوبے پر 8 ارب روپے لاگت آئے گی۔

کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دی اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو بسوں کی خریداری کے لیے اجازت دی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے محکمے کو ضروری رقوم فراہم کریں گے۔

انہوں نے اسے 6 اضلاع کے عوام کے لیے خوشخبری قرار دی۔

وزیر بلدیات ناصر شاہ نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایکٹ 2021 کا مسودہ پیش کیا جس میں ہر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سالڈ کچرے کے انتظام بورڈ کے قیام پر زور دیا گیا۔

مسودے کے مطابق ہر بورڈ کی سربراہی بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے میئر سے متعلق ڈویژن کے کمشنر کریں گے۔

کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دی اور معاملہ اسمبلی کو بھجوا دیا۔

وزیراعلیٰ نے کابینہ کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے بہت سے محکموں میں گریڈ 16 اور 17 میں 14 سو ملازمین کے تقرر کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کا تقرر 2008 میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے بغیر کیا گیا تھا۔

کابینہ نے مکمل بحث و مباحثے کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button