اہم خبریں

عمران خان نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر اور سفارتخانے کے خلاف انکوائری کا اعلان کر دیا لیکن کیوں ؟ تہلکہ خیزانکشاف 

عمران خان نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر اور سفارتخانے کے خلاف انکوائری کا …

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمرا ن خان نے سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے اور سفیر کے خلاف انکوائری کا اعلان کر دیاہے ، جنہوں نے ہمارے لیبر طبقے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا انکوائری رپورٹ آنے پر ذمہ داران کو مثالی سزائیں دی جائیں گی۔

ٓاسلام آباد میں روشن ڈیجٹیل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے سفارتخانے کو محنت کش لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو خون پسینہ ایک کرتے ہیں ، بیچارے کئی مرتبہ بارہ بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں ، پیسے بچا کر اپنی فیملیز کو بھیجتے ہیں ، آٹھ آٹھ لوگ ایک کمرے میں رہتے ہیں ، یہ ملک کے خاص لوگ ہیں ،ایک تو ہم ان کو نوکریاں نہیں دے سکتے ، یہ اپنی فیملی سے سالوں دور رہتے ہیں ، محنت کر کے و ہ پیسہ بچا کر بھیجتے ہیں اور وہی زر مبادلہ آج پاکستان کو چلا رہاہے ۔

عمران خان کا کہناتھا کہ باہر سفارت خانوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی سب سے اہم ڈیوٹی یہ ہے کہ ان لوگوں کا دیہان رکھناہے جو پاکستان کی لیبر وہاں کام کر رہی ہے ، جو مزدور طبقہ ہے ، مجھے پتا چلا کہ سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے جو ان کو سروس دینی چاہیے تھی وہ انہوں نے نہیں دی ، کل میں نے پوری اس پر انکوائری کروائی ہے ، سفیر پر انکوائری کروا رہاہوں ، زیادہ سٹاف پاکستان واپس بلا رہاہوں اور جب انکوائری کے نتائج آئیں گے تو جو ذمہ دارہیں جنہوں نے ہمارے مزدوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ان سب کے خلاف ایکشن لوں گا، ہم ان کی مثال بنائیں گے ، ان کا کام ہے ان کی مدد کرنا ، مجھے رپورٹس آئیں ہیں کہ ان سے پیسے لیے جاتے ہیں ، بہت بڑی انکوائری ہو رہی ہے، جن لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ان کو مثالی سزائیں دی جائیں گی ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سمندر پار 90 لاکھ پاکستانیوں کی جانب سے ایک ارب ڈالرز آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت میں روپے کی قیمت میں کمی آجاتی ہے ،روپے کی قیمت میں استحکام نہیں ہو تو سرمایہ کاری پر اثر پڑتا ہے،جب تک برآمدات میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک ہمیں یہ خلا ترسیلات زر سے پر کرنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے بینکوں کو چھوٹے لوگوں کو قرض دینے کی عادت نہیں ،بینک کو چھوٹے لوگوں کو قرض دینے کیلئے اپنے سٹاف کو ٹریننگ دینا ہوگی ۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں لانگ ٹرم پالیسی کا المیہ رہا ہے ، گزشتہ 30سال میں 20بار آئی ایم ایف کے پاس جا چکے ہیں ۔

مزید :

اہم خبریںقومی




Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button