ٹیکنالوجی

غذائی قلت کو پورا کرنے کے لیے دھاتی گندم پر کام شروع

میکسیکو سٹی: اناج پر تحقیق کرنے والے عالمی ادارے کے ماہرین نے بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والی غذائی قلت کو پورا کرنے کے لیے نئی اقسام کی دھاتی گندم پر کام شروع کردیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر کے سائنس دان زنک کی طاقت سے بھرپور مکئی کی گندم کی پیداوار پر کام کررہے ہیں، جس کی مدد سے کروڑوں انسانوں کی ضرورت پوری کی جاسکے گی۔

زنک کی طاقت سے بھرپور گندم کی مدد سے غذائیت کا شکار افراد کو اُتنی مقدار میں توانائی مل سکے گی جتنی کسی انسان کو دکار ہوتی ہے۔

 

گندم کی نئی اقسام پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مارٹن کروپف نے امید ظاہر کی کہ ’آئندہ دس سالوں میں عالمی سطح پر اس گندم کا استعمال 80 فیصد تک بڑھ جائے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت زنک کی مدد سے تیار کردہ گندم دنیا بھر میں صرف 9 فیصد لوگ استعمال کررہے ہیں۔

 

ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ’بایو فورٹیفائیڈ گندم کی بہترین قسم پاکستان، بھارت، بنگلادیش، میکسیکو اور بولیویا کے تعاون سے کاشت کی جارہی ہے جبکہ رواں سال چین بھی اس منصوبے کا حصہ بنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگلی دہائی میں گندم کی تمام نئی اجناس غذائیت کی حامل ہوں گی، زنک کی زیادہ مقدار رکھنے والی یہ گندم تکنیک کے ذریعے بنائی جارہی ہے، جس میں جینیات کی نہیں بلکہ جنس کی تبدیلی کی گئی ہے‘۔

ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ’یہ گندم بھی ذائقے میں بالکل ویسے ہی ہے، بلکہ کوئی بھی اس فرق کو نہیں پکڑ سکتا‘۔ اس بات کو مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’گزشتہ دو سالوں کے دوران کولمبیا میں زنک کی گندم مکئی کی اضافی پیداوار کی گئی‘۔

 

کروپف نے مکئی کی تین اقسام کی گندم بارے میں بھی بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس گندم کی فصل افریقا اور ایشیا میں کاشت کی گئی، جو کیڑوں کے خلاف زبردست مزاحمت کی صلاحیت بھی رکھتی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’قدرتی دھات سے پیدا کی جانے والی یہ نئی اقسام آئندہ چند ماہ میں کینیا، ایتھوپیا، یوگینڈا، روانڈا، جنوبی سودان، ملاوی، موزمبیق ، جنوبی افریقہ، زیمبیا اور زمبابوے میں آزمائش کے لیے پیش کی جائیں گی‘۔

 

اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’اس گندم کو مشرقی افریقا میں تجربے کے لیے پیش کیا گیا، جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے‘۔

 

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق میکسیکو میں قائم یہ ادارہ دنیا کے غریب ترین کاشت کاروں کی پیداوار، آمدنی میں اضافے کے علاقہ موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں جیسے چیلینجز سے نمٹنے پر تحقیق کررہا ہے‘۔

گندم کی یہ نئی اقسام زنک اور آئرن جیسی اہم معدنیات کی اضافی مقدار کی بدولت بہتر غذائیت فراہم کرتی ہیں اور وائرسز کو روکنے کے ساتھ جسم میں آکسیجن کی ترسیل کے کام کو آسان بناتی ہے۔


subscribe YT Channel


Source by [author_name]

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button