پاکستان

غزوہ بدر، 17 رمضان مسلمانوں کی پہلی عظیم فتح

سنہ تین ھجری سترہ رمضان المبارک مقام بدر میں تاریخ اسلام کا وہ یادگار دن ہے، جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، جس میں کفار قریش کی طاقت کا گھمنڈ خاک میں مل گیا۔

غزوہ بدر کو دیگر غزوات پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ اسے کفر و اسلام کا پہلا معرکہ ہونے شرف حاصل ہے۔ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ بدر کو ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا اور قرآن مجید نے اسے یوم الفرقان سے تعبیر کرکے اس کی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔

فرمایا ” جو ہم نے اپنے( برگزیدہ) بندے پر ( حق وباطل کے درمیان) فیصلے کے دن نازل فرمائی وہ دن (جب بدر میں مومنوں اور کافروں کے) دونوں لشکر باہم متصادم ہوئے تھے۔” (سورہ الانفال)

تیرہ سال تک کفار مکہ نے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے مگر مسلمانوں کا جذبہ ایمانی کم نہ ہوا، ان کا خیال تھا کہ مُٹھی بھر یہ بے سرو سامان ‘سر پھرے’ بھلا ان کی جنگی طاقت کے سامنے کیسے ٹھہر سکتے ہیں، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آخرکار غزوہ بدر ہوا۔

صرف تین سو تیرہ مسلمانوں نے کفار کے دو گنے لشکر سے مقابلہ کیا اورایسی فتح پائی کہ اسلام کا بول بالا ہوگیا۔

 


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button