اہم خبریں

لاہور ہائیکورٹ میں شہبازشریف کی ضمانت پر درخواست سماعت جاری

لاہور ہائیکورٹ میں شہبازشریف کی ضمانت پر درخواست سماعت جاری

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )شہبازشریف کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کر تے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جو ٹی ٹیزآئی تھیںان کے ذرائع کیا تھے ،آخر وہ رقم کہاں سے آئی تھی جو ٹی ٹیز کے ذریعے بھجوائی گئی، کیا نیب نے تفتیش کی کہ یہ رقم کک بیکس کی ہے یا کرپشن کی ، آپ کو چاہیے تھاتفتیش کرتے کہ ان کے غیرقانونی ذرائع کیاتھے ۔

لاہورہائیکورٹ میں شہبازشریف کی ضمانت کی درخواست پر جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہاہے جس دوران نیب پراسیکیوٹر نے گزشتہ روز اعظم نذیر تارڑ کی آبزرویشن پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اعظم نذیرتارڑکی یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے،نیب پراسیکیوٹرنے سخت بات کی جوانہیں واپس لینی چاہیے ،نیب توہین عدالت کا نوٹس دلوانا چاہتی ہے ،ہم باہر جا کر موکل کو کیا بتائیں ضمانت ہوئی کہ نہیں ۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ خودپڑھ کرفیصلہ اپنے سائل کوبتائیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ثابت کرسکتاہوں جملہ توہین آمیزہے توآپ کواسے واپس لینا چاہیے ، گزشتہ روزشہبازشریف کے وکلانے غیرمناسب آبزرویشن دی،یہ معاملہ عدالت کوگمراہ کرنے کے مترادف ہے، شہبازشریف کے وکیل نے 2 رکنی بنچ کے بارے میں گمراہ کن بات کی شہبازشریف کےوکیل کواپنی بات واپس لینی چاہیئے،اعظم نذیرتارڑنے کہاایسانہیں ہواکہ فیصلہ ہونے کے بعدتبدیل ہواہو۔ شہبازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں اب بھی اپنے الفاظ پرقائم ہوں۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو اس مسئلے پر مزید بحث کرنے سے روک دیا ، جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ آپ صرف کیس پر بات کریں ۔

نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نصرت شہباز کے نام پر 299 ملین کے اثاثے ہیں ، ان کے اکاﺅنٹ میں 26 ٹی ٹیزآئی ، سلمان شہباز کے اثاثے دو ارب 25 کروڑ ہیں، 150 ٹی ٹیزآئیں جن کی مالیت ایک ارب 60 کروڑ بنتی ہے ، الجلیل ہاﺅسنگ سوسائٹی نے پارٹی فنڈ کیلئے بیس لاکھ دیئے ، انہوں نے پیسے ملازمین کی کمپنیوں میں جمع کروائے ، پیسے شہبازشریف کے اکاﺅنٹ میں نہیں خاندان کے افراد کے نام پر آئے ، جب شہبازشریف کو ضرورت ہو تی اس کے مطابق رقم لیتے تھے ۔

 عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ٹی ٹیزآناشروع ہوئیں تو اس وقت سلمان شہباز کی عمر کیا تھی جو ٹی ٹیزآئی تھیںان کے ذرائع کیا تھے ،آخر وہ رقم کہاں سے آئی تھی جو ٹی ٹیز کے ذریعے بھجوائی گئی ،کیا نیب نے تفتیش کی کہ یہ رقم کک بیکس کی ہے یا کرپشن کی ، آپ کو چاہیے تھاتفتیش کرتے کہ ان کے غیرقانونی ذرائع کیاتھے۔

مزید :

اہم خبریںقومی




Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button