پاکستان

مستقبل کے لائحہ عمل کیلئے بلاول نے 11 اپریل کو سی ای سی کا اجلاس طلب کرلیا

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 11 اپریل کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس طلب کیا ہے۔

اجلاس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے قیادت کو بھیجے گئے اظہارِ وجوہ کے نوٹس پر پارٹی کے جواب پر غور کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اپوزیشن اتحاد سے پارٹی کی ممکنہ اور باضابطہ علیحدگی کے تناظر میں مستقبل کے لائحہ عمل وضع کیا جائے گا کیوں کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے۔

 

سی ای سی اجلاس سے متعلق اعلان پی پی پی کے جنرل سیکریٹری نیئر بخاری نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی جانب سے پی ڈی ایم کے شوکاز نوٹس پر احتجاجاً اپوزیشن اتحاد سے علیحدگی کے اعلان کے ایک روز بعد کیا۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا اجلاس پی ڈی ایم کی 9 جماعتوں کی جانب سے اسمبلیوں سے اجتماعی استفعوں کی تجویز کے ایک نکاتی ایجنڈے پر 5 اپریل کو ہونا تھا۔

تاہم تبدیل شدہ صورتحال کے تحت پارٹی کے رہنما ممکنہ طور پر اس آپشن پر بات چیت نہیں کریں گے کیوں کہ پی پی پی رہنماؤں کی بڑی تعداد واضح طور پر یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے۔

پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے ایک بیان میں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اجتماعی استعفوں کے معاملے سے پیچھے ہٹنے پر طنز کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے قائدین سے سوال کیا کہ وہ کب اسمبلیوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

شازیہ مری نے براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جے یو آئی (ف) کے ساتھ مل کر اپنے معمولی مفادات کے لیے پی ڈی ایم میں دراڑیں ڈالیں۔

ساتھ ہی پی پی پی کی رکنِ قومی اسبملی نے جے یو آئی (ف) کو لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اتحاد کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ‘لاڑکانہ میں جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے اتحاد پر کب شو کاز نوٹس جاری کیا جائے گا’۔

اسی طرح سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے کہا کہ ان کی پارٹی پاکستان کے عوام اور پارٹی کارکنان کے سوا کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔

انہوں نے پی پی پی اور اے این پی کو بھیجے گئے نوٹس کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کا کوئی آئین نہیں اس لیے اتحاد میں شامل کسی بھی جماعت کو نوٹس جاری نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے سینیٹ الیکشن کے دوران پنجاب سے اپنے امیدوار دستبردار کردیے تھے جہاں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت ہے ‘پنجاب میں جو ہوا بلامقابلہ سینیٹرز منتخب ہوئے اس پر ہم نے کبھی کھلے عام چارج شیٹ نہیں پیش کی’۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے کو نہیں بلکہ ‘سلیکٹڈ حکومت’ کو ہدف بنانا چاہیے۔

علاوہ ازیں ایک اور پی پی پی رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے جان بوجھ کر استعفوں کا مطالبہ کیا تا کہ پی ڈی ایم کو تقسیم اور حکومت کو بچایا جاسکے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ اتحاد نوٹس جاری نہیں کرسکتا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اب صرف وہ پارٹیاں پی ڈی ایم میں ہیں جنہوں نے اتحاد کے فیصلوں کو نافذ کیا۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button