تازہ ترین

ورلڈ کپ میں تقریباً وہی اسکواڈ جائے گا، جو دورہ انگلینڈ کیلئے منتخب ہو گا: ہیڈ کوچ

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے وائٹ بال کرکٹ میں پاکستان کی مڈل آرڈر کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ انگلینڈ کے لیے جو اسکواڈ منتخب کیا جائے گا، ورلڈ کپ میں بھی کم و بیش وہی اسکواڈ ہو گا۔

جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے خاتمے پر وطن واپسی پر مصباح الحق نے آن لائن پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر دونوں سیریز میں ہماری باؤلنگ کی کارکردگی بہت اچھی رہی ، ٹیسٹ میچ میں بہترین کھیل پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی20 اور ون ڈے میچوں میں ٹاپ آرڈر نے اچھا پرفارم کیا۔

انہوں نے کہا کہ اچھی چیزوں کے ساتھ کچھ مسائل بھی نظر آ رہے ہیں اور وائٹ بال کرکٹ میں مڈل آرڈر کے مسائل جنوبی افریقہ اور زمبابوے دونوں میں نطر آئے، اس پر جلد کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آگے ورلڈ کپ آ رہا ہے اور ہمیں ایس مناسبت سے کچھ کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ کارکردگی کے اس تسلسل کو جاری رکھیں، انگلینڈ کے خلاف محدود اوورز کی سیریز ہمارے لیے بہت اہم ہے اور پھر ویسٹ انڈیز سے بھی سیریز ہے اور کوشش ہو گی کہ وہاں بھی جیتیں۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ بابر اعظم کا بطور کپتان اعتماد بڑھتا جا رہا ہے، جیت کے ساتھ اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور فیصلہ سازی کی قوت بہتر ہوتی جاتی ہے اور اس وقت بابر کی کارکردگی بہت قابل اطمینان ہے۔

کھلاڑیوں کو دیر سے مواقع ملنے کے حوالے سے سوال پر مصباح نے کہا کہ ٹیم کے کچھ کمبی نیشن ایسے ہوتے ہیں کہ آپ کافی عرصہ پرفارم کرنے کے باوجود بھی ٹیم میں آ نہیں سکتے، جیسا کہ میں جب میں پرفارم کررہا تھا تو یونس خان، محمد یوسف اور انضمام الحق مڈل آرڈر میں تھے اور ٹیم میں جگہ نہیں بن پاتی تھی، مواقع ملنا مشکل تھا، اسی طرح فواد عالم کی بھی بدقسمتی رہی کہ جب وہ پرفارم کرتے رہے تھے تو مڈل آرڈر سیٹ تھی، اظہر علی، یونس خان، اسد شفیق اور میں ٹیم میں تھا اور ہم سب پرفارم کررہے تھے تو جگہ نہیں بن پاتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک 34، 35 یا 36 سال کی عمر میں مواقع دینے کا سوال ہے تو میرا ماننا ہے کہ اگر ایک کھلاڑی فٹ ہے اور پرفارم کررہا ہے تو وہ جب تک اچھا کھیل پیش کر سکتا ہے، اسے مواقع ملنے چاہئیں اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ ایک سال کھیلے گا یا دو سال کھیلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ورلڈ کپ کے لیے اسکواڈ تشکیل دینے کا وقت آ گیا ہے، انگلینڈ سے سیریز کے لیے جو اسکواڈ منتخب ہو گا، ورلڈ کپ کے لیے کم و بیش وہی اسکواڈ ہو گا اور پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے انعقاد سے بھی اسکواڈ تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔

کمزور ٹیموں سے کھیلنے کے حوالے سے سوال پر مصباح نے کہا کہ اگر ہم اپنے بارے میں سوچتے رہیں گے تو کھیل کی ترقی نہیں ہو گی، جو بھی ٹیمیں آج سرفہرست ہیں، کسی وقت میں وہ بھی کمزور تھیں، اگر وہ کھیلیں گے نہیں تو انہیں عالمی کرکٹ سے واقفیت کیسے ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ مضبوط ٹیموں سے کھیلنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس طرح آپ کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور آپ کے کھیل میں بہتری آتی ہے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہمارا مڈل آرڈر ناتجربہ کار ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کی تمام ٹیمیں 200 رنز سے زائد اسکور کررہی ہیں تو اس لیے ہم بھی اسٹرائیکرز کی طرف جا رہے ہیں۔

زمبابوے اور جنوبی افریقہ کی سیریز میں کمزور حریف ہونے کے باوجود نوجوانوں کو مواقع نہ دینے کے سوال پر مصباح نے کہا کہ پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ نوجوانوں کی تعریف کیا ہے تاکہ مجھے بھی کلیئر ہو جائے کہ نوجوان کون ہوتا ہے، ہمارے ملک میں لگتا ہے 15-16 سال کا نوجوان ہوتا ہے اور 20 سال کے بعد بوڑھا ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیم میں تو پہلے سے ہی تمام نئے کھلاڑی ہیں، کوئی پرانا کھلاڑی نہیں ہے، ہمارے ہاں ایک سیریز کھیلنے والا نوجوان نہیں رہتا اور لوگ چاہتے ہیں کہ اسے بٹھا دیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کی بات کی جائے تو اظہر کے 80 ٹیسٹ میچ ہیں اور بابر اعظم کے 33 میچز ہیں، اس کے علاوہ کسی کے بھی 20 سے زیادہ میچ نہیں ہیں، ہم پھر بھی چاہ رہے ہیں کہ نئے کھلاڑی کھلا دیں، میرے خیال میں یہ صرف نعرہ لگا ہوا ہے، ہمارا کپتان بھی نوجوان ہے جبکہ رضوان بھی ابھی آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ سب پاورز میرے پاس ہے اور سلیکشن کے سب فیصلے سلیکشن کمیٹی کرتی ہے۔

مصباح الحق نے نوجوان کھلاڑیوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت ہے، یہ بنیاد پر کام کریں گے، تو ہی اگلا قدم اٹھا سکیں گے۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button