اہم خبریں

ڈسکہ ضمنی الیکشن: الیکشن کمیشن منظم دھاندلی شواہد سے ثابت کرےمنظم دھاندلی کے شواہد نہیں تو قانون کی وسیع خلاف ورزی دکھائے سپریم کورٹ

ڈسکہ ضمنی الیکشن: الیکشن کمیشن منظم دھاندلی شواہد سے ثابت کرے،منظم دھاندلی …

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن سے متعلق کیس میں جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پولیس کو ڈنڈا اورگولی کے علاوہ کچھ نہیں آتا،پولیس کے پاس مجمع منتشر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں،حکومتی اداروں کی نااہلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،الیکشن کمیشن منظم دھاندلی شواہد سے ثابت کرے،منظم دھاندلی کے شواہد نہیں تو قانون کی وسیع خلاف ورزی دکھائے، دیکھنا ہے کہ پریذائیڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے سے نتیجہ متاثر ہوا؟۔

سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،ن لیگی امیدوار نوشین افتخار اورپی ٹی آئی کے علی اسجد ملہی عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے ویڈیولنک پر دلائل دیئے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ امید کرتے ہیں آپ مختصر دلائل دیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی انکوائری کے بغیر فیصلہ دینے کی بات درست نہیں،الیکشن کمیشن نے تمام متعلقہ حکام سے رابطہ کیا۔

سلمان اکرم راجہ نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا،جسٹس عمر عطابندیال نے سلمان اکرم راجہ کی سرزنش کردی۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پچھلے ہفتے دلائل مکمل نہ ہونے پرسماعت آگے لے جاناپڑی،آج بھی دن کا تقریبااختتام ہوگیا آپ صرف فیصلے پڑھ کر سنا رہے ہیں ،اورکون کون سے فیصلے پڑھ کر سناناچاہتے ہیں ،عدالت کے سامنے کون سانکتہ لاناچاہتے ہیں ۔

جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ دلائل مکمل کرنے کیلئے آدھا گھنٹہ اور دینگے ،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ کوشش کروں گا آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کرلوں ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ بظاہر ایسا لگتا کہ آپ اپنے بنیادی نکتے پر آئے بغیر دلائل ختم کر لیں، آپ کو معلوم ہے آپ کا بنیادی نکتہ کیا ہے؟سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جی میں اپنے بنیادی نکتے کی طرف آرہا ہوں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کافیصلہ حقائق اورقانون کے مطابق ہے ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ جن فیصلوں کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ چند پولنگ سٹیشن سے متعلق ہیں ،ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کاحکم پورے حلقے کیلئے دیا گیا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ دلائل میں بتایا پولیس سمیت پولنگ عملہ کئی گھنٹے تک لاپتہ رہا،وکیل لیگی امیدوار نے کہاکہ کسی حلقے میں ایک شخص کو بھی تھپڑ مار دیا جائے تو دوبارہ پولنگ کیلئے یہی بات کافی ہے،کسی ایک پرتشدد واقعہ سے پورا الیکشن متاثر ہوتا ہے،جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ گزشتہ سماعت پر دلائل مکمل نہ کرنا آپکی ناقابلیت تھی،آپ کی جانب سے دلائل مکمل نہ کرنے سے طوفان برپا ہوا،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ایک بجے تک کیس سنیں گے، دلائل مکمل کر لیں،کچھ دیر علی اسجد ملہی کے وکیل اور الیکشن کمیشن کو سنیں گے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ ہنگامہ آرائی 40 یا 76 پولنگ سٹیشنز پر تھی،تاثر یہ تھا کہ پورے حلقے میں ہنگامہ آرائی ہے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ نے بتایا تھا کہ پولیس سمیت پولنگ سٹاف کئی گھنٹے تک لاپتہ رہا، پولنگ سٹاف میں کوئی ایک آدھ ملازم نہیں 20 پریذائیڈنگ افسران لاپتہ رہے،وحیدہ شاہ کیس میں لاقانونیت کی تعریف کی گئی ہے،آپ کی سہولت کیلئے کہہ رہے کہ آپ اس نکتے کی طرف آئیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ دیہی علاقوں میں ٹرن آوَٹ 52 فیصد رہا،شہری علاقوں میں فائرنگ کے باعث ٹرن آوَٹ 35 فیصد سے کم تھا،الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل میں رکاوٹیں منصوبے کے مطابق ڈالی گئیں،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کسی منصوبے کی بات نہیں کی،پریزائیڈنگ افسران کا موبائل ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں تھا،موجودہ اپیل میں موبائل ریکارڈ یا ڈیٹا کا کس طرح جائزہ لیا جا سکتا ہے؟ 

جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ 20پریذائیڈنگ افسران پولیس اسکواڈ کے ساتھ لا پتہ ہوگئے،وحیدہ شاہ کیس کا پیرا15 پڑھیں، آپ کو معلوم ہوگا الیکشن سٹاف کا کنڈیکٹ کتنا اہم ہوتا ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ سول انتظامیہ نے ڈسکہ میں الیکشن کمیشن سے تعاون نہیں کیا،اولین استدعاہے کہ پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم برقرار رکھاجائے،ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل مکمل کرلئے۔

سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس میںالیکشن کمیشن کے وکیل نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی،وکیل الیکشن کمیشن میاں عبدالروَف نے کہاکہ پریذائیڈنگ افسر پر لازم ہے کہ وہ الیکشن مٹیریل کی ترسیل کریں،پولنگ کے فوراً بعد مذکورہ سٹاف حلقے کی حدود سے ہی باہر چلا گیا،الیکشن کمیشن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولنگ سٹاف سیالکوٹ چلاگیا۔

جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جگہ کا علم تو آپ کو بعد میں ہوا ،ابتدائی معلومات کے مطابق عملہ لاپتہ ہوگیا تھا، عدالت نے کہاکہ آپ کے پاس ڈرائیور، پریذائیڈنگ افسر اور پولیس کے نمبر ہوتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیاکہ کیا تینوں کے نمبروں پر رابطہ نہیں ہوا تھا؟وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ تینوں نمبرز اس وقت بند جا رہے تھے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ تینوں نمبرز اس وقت بند جا رہے تھے یہ نکتہ بہت اہم ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ لاپتہ پریذائیڈنگ افسران کی لوکیشن عدالت کو جمع کروا دی ہے،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ کمیشن نے اپنے فیصلے کے بعد لوکیشن کیوں منگوائی؟ پریذائیڈنگ افسران کی لوکیشن کی قانونی حیثیت نہیں،وکیل میاں عبدالرﺅف نے کہاکہ لاپتہ 14 پریذائیڈنگ افسران حلقے سے باہر گئے تھے،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپکی بات کرنے کے انداز سے معاملہ مشکوک لگ رہا ہے، جس مواد پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تھا صرف وہ پیش کرنا ضروری ہے،فیصلہ کرتے وقت الیکشن کمیشن کو معلوم ہی نہیں تھا معاملہ کیا ہے؟ ۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ حلقے سے باہر جاکر پریذائیڈنگ افسران اور پولیس کے موبائیل بند ہو گئے،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ دلائل کو الیکشن کمیشن کے فیصلے تک محدود رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ پی ٹی آئی نے اپیل میں بدامنی ہونے کااعتراف کیا۔

عدالت نے کہاکہ سیکیورٹی انتظامات اطمینان بخش نہیں تھے، تو الیکشن کمیشن نے کیا کیا؟ جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ پولنگ سے چند روز پہلے الیکشن کمیشن کو سیکیورٹی انتظامات کا پتہ تھا،ان حالات میں الیکشن کمیشن کو بڑھ کر اقدامات کرنے تھے، ریکارڈ سے یہ دکھائیں پولنگ کے روز جو کچھ ہوا وہ ڈیزائن تھا،پولنگ کے دن سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ پولیس اورانتظامیہ نے تعاون نہیں کیا،امیدوارکوبھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرنوٹس کیے،عدالت نے کہاکہ سیکیورٹی کیلئے الیکشن کمیشن کا انحصارکس پر ہونا تھا؟جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ کیاماضی میں پولیس کی کارکردگی سے کمیشن مطمئن تھا؟عام انتخابات میں رینجرزکی مدد بھی لی جاتی ہے،

عدالت نے کہاکہ پولیس تعاون نہیں کررہی تھی تو متبادل انتظام کیوں نہیں کیا؟جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ کیاصرف خط لکھنے سے سیکیورٹی اقدامات ہوتے ہیں؟عدالت نے کہاکہ انتخابی عمل ملتوی کرکے پولیس کیخلاف کارروائی کیوں نہ کی؟7 فروری سے پولیس تعاون نہیں کررہی تھی الیکشن 19 کوہوا۔

جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پولیس کو ڈنڈا اورگولی کے علاوہ کچھ نہیں آتا،پولیس کے پاس مجمع منتشر کرنے کی صلاحیت ہی نہیں،حکومتی اداروں کی نااہلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،الیکشن کمیشن منظم دھاندلی شواہد سے ثابت کرے،عدالت نے کہاکہ منظم دھاندلی کے شواہد نہیں تو قانون کی وسیع خلاف ورزی دکھائے،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ عوام بھی پولیس کو سنجیدہ نہیں لیتی،عدالت نے کہاکہ دیکھنا ہے کہ پریذائیڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے سے نتیجہ متاثر ہوا؟ عدالت نے این اے 75 ڈسکہ الیکشن سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریںقومیعلاقائیاسلام آباد




Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button