صحت

کورونا وائرس کس طرح انسانی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی

کورونا وائرس انسانی جسم کے جس عضو کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے وہ پھیپھڑے ہیں، حال ہی میں ماہرین نے ایسا ماڈل تیار کیا ہے جس سے وضاحت ہوتی ہے کہ کورونا وائرس کس طرح انسانوں کے پھیپھڑوں میں تباہی مچاتا ہے۔

امریکا کے طبی ماہرین نے پہلی بار ایسا تفصیلی ماڈل تیار کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کس طرح انسانوں کے پھیپھڑوں میں تباہی مچاتا ہے۔

امریکا کے محکمہ توانائی کی بروک ہیون نیشنل لیبارٹری کے ماہرین کی تحقیق طبی جریدے جرنل نیچر کمیونیکشن میں شائع ہوئی۔ تحقیق سے وضاحت ہوتی ہے کہ کس طرح یہ وائرس پھیپھڑوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے اور کیسے وہ وہاں سے دیگر اعضا تک پھیل جاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ گہرائی میں جاکر تفصیلات سے وضاحت ہوتی ہے کہ اس وائرس سے جسم کو اتنا نقصان کیوں پہنچتا ہے اور اس کی بنیاد پر روک تھام کے ذرائع کی تلاش آسان ہوسکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے ماہرین نے ایک مالیکیولر ماڈل تیار کیا تھا جس کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی وائرل پروٹینز کی تحقیق کے لیے بہت زیادہ کارآمد ہے جو دیگر تکنیکوں سے بہت مشکل ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کرونا وائرس میں ایسا پروٹین ہوتا ہے جو وائرس کی باہری جھلی میں اسپائیک پروٹین کے ساتھ پایا جاتا ہے، یہ پروٹین ای اس وائرس کو خلیات کے اندر نقول بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے جبکہ انسانی پروٹینز کو ہائی جیک کرکے وائرس کے اخراج اور منتقلی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ عمل وائرس کے لیے بہترین ہوتا ہے مگر انسانوں کے لیے بدترین، بالخصوص کووڈ 19 کے معمر اور پہلے سے مختلف امراض کے شکار افراد کے لیے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب پھیپھڑوں کے خلیات میں خلل پیدا ہوتا ہے تو مدافعتی خلیات آ کر نقصان کی تلافی کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں چھوٹے پروٹینز سائٹو کائینز کا اخراج ہوتا ہے، یہ مدافعتی ردعمل ورم کو متحرک کر کے زیادہ بدتر کرتا ہے، جس کو سائٹوکائین اسٹروم بھی کہا جاتا ہے۔

اس صورتحال میں وائرسز کے لیے پھیپھڑوں سے نکل کر دوران خون کے ذریعے دیگر اعضا بشمول جگر، گردوں اور شریانوں کو متاثر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس منظر نامے میں مریضوں کو دیگر وائرسز سے بھی زیادہ نقصان پہنچتا ہے جبکہ زیادہ ای پروٹینز بننے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ ایک بار بار ہونے والا سائیکل بن جاتا ہے، یعنی مزید وائرسز ای پروٹٰنز بناتے ہیں اور خلیات کے پروٹینز کو ہائی جیک کرکے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں، زیادہ پھیلتے ہیں اور ایسا بار بار ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے ہم اس تعلقق پر تحقیق کرنا چاہتے تھے۔

ماہرین نے ای پروٹین اور پھیپھڑوں کے پروٹین پی اے ایل ایس 1 کے درمیان تعلق کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیا اور اس کی تصاویر بنائیں اور ان کو علم ہوا کہ کس طرح یہ وائرس پھیپھڑوں میں تباہی مچاتا ہے، جس کی وضاحت اوپر کی جاچکی ہے۔


subscribe YT Channel


Source

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ADVERTISEMENT
Back to top button